نہج البلاغہ
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
وہ مبارک کتاب جسے سید شریف رضی نے مرتب فرمایا
خطبات امام علیؑ
نہج البلاغہ کے ۲۴۱ خطبات — اردو ترجمہ کے ساتھ
خطبہ خطبہ 224خطبہ (224) : آپ کے دعائیہ کلمات (224- آپؑ کے دُعائیہ کلمات)
اے اللہً! تو اپنے دوستوں کے ساتھ تمام اُنس رکھنے والوں سے زیادہ مانوس ہے۔
خطبہ خطبہ 225خطبہ (225) : اپنے ایک صحابی کے متعلق فرمایا جو انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ گئے تھے (225- انتشار و فتنہ سے قبل دنیا سے اٹھ جانے والوں کے متعلق فرمایا)
فلاں شخص کی کارکردگیوں کی جزا اللہ دے انہوں نے ٹیڑھے پن کو سیدھا کیا، مرض کا چارہ کیا۔
خطبہ خطبہ 226خطبہ (226) : اپنی بیعت کے متعلق فرمایا (226- اپنی بیعت کے متعلق فرمایا)
آپ ؑ کی بیعت کے بیان میں ایسا ہی ایک خطبہ اس سے قبل اس سے کچھ مختلف لفظوں میں…
خطبہ خطبہ 227خطبہ (227) : موت سے خائف رہنے والے اور زہد اختیار کرنے والے کے متعلق فرمایا (227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق)
بے شک اللہ کا خوف ہدایت کی کلید اور آخرت کا ذخیرہ ہے۔
خطبہ خطبہ 228خطبہ (228) : جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا (228- جب بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو فرمایا)
امیر المومنین ؑ نے بصرہ کی طرف جاتے ہوے مقام ذی قار میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔
خطبہ خطبہ 229خطبہ (229) : عبد اللہ ابن زمعہ نے آپ سے مال طلب کیا تو فرمایا (229- عبد اللہ ابن زمعہ نے آپؑ سے مال طلب کیا تو فرمایا)
عبد اللہ ابن زمعہ نے مال طلب کیا تو حضرت نے فرمایا: یہ مال مسلمانوں کا حق ہے۔
اِلهِی کَفٰی بِی عِزّاً اَنْ اَکُونَ لَکَ عَبْداً
پروردگارا! میرے لیے یہی عزت کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں۔
حکمتیں
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت (493) : بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔ سید رضی کہتے ہیں کہ یہ اس لیے کہ مقدور سے زیادہ تکلیف، رنج و مشقت کا سبب ہوتی ہے اور جس بھائی کے لیے تکلف کیا جائے، اُس سے لازمی طور پر زحمت پہنچے گی۔ لہذا وہ بُرا بھائی ہوا۔
بدترین بھائی وہ ہے جس کے لیے زحمت اٹھانا پڑے۔
حکمت (494) : جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔
جب کوئی مومن اپنے کسی بھائی کا احتشام کرے تو یہ اُس سے جدائی کا سبب ہو گا۔
حکمت (490) : جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔
عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو۔
حکمت (491) : سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے
سب سے بھاری گناہ وہ ہے جسے مرتکب ہونے والا سُبک سمجھے
حکمت (492) : اللہ نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں۔
اللہ نے جاہلوں سے سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا۔
حکمت (482) : لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔ چنانچہ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے کہ »آپس میں حسن سلوک کو فراموش نہ کرو «اس زمانہ میں شریر لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نیکو کار ذلیل خوار سمجھے جائیں گے اور مجبور اور بے بس لوگوں سے خرید و فروخت کی جائے گی۔حالانکہ رسول اللہ صلی علیہ و آلہ وسلم نے مجبور و مضطر لوگوں سے (اونے پونے )خریدنے کو منع کیا ہے۔
لوگوں پر ایک ایسا گزند پہنچانے والا دور آئے گا، جس میں مالدار اپنے مال میں بخل کرے گا حالانکہ اسے یہ حکم نہیں۔
حکمت (483) : میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔ سید رضی کہتے ہیں کہ حضرت کایہ قول اس ارشاد کے مانند ہے کہ میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے ایک محبت میں غلو کرنے والا، اور دوسرا دشمنی و عناد رکھنے والا۔
میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلا ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والا اور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔
حکمت (484) : حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ اور یہ عدل ہے کہ اس پر الزامات نہ لگاؤ۔
حضرت سے توحید و عدل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا توحید یہ ہے کہ اسے اپنے وہم و تصور کا پابند نہ بناؤ۔
حکمت (485) : حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں جس طرح جہالت کے ساتھ بات کرنے میں کوئی بھلائی نہیں۔
حکمت کی بات سے خاموشی اختیار کرنا کوئی خوبی نہیں۔
حکمت (486) : طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں سید رضی کہتے ہیں کہ یہ کلام عجیب و غریب فصاحت پر مشتمل ہے۔ اس طرح کہ امیر المومنین علیہ السلام نے کڑک، چمک، ہوا اور بجلی والے بادلوں کو اُن اونٹوں سے تشبیہ دی ہے کہ جو اپنی منہ زوری سے زمین پر پیر مار کر پالان پھینک دیتے ہوں اور اپنے سواروں کو گرا دیتے ہوں۔ اور ان خوفناک چیزوں سے خالی ابر کو ان اونٹنیوں سے تشبیہ دی ہے جو دوہنے میں مطیع ہوں اور سواری کرنے میں سوار کی مرضی کے مطابق چلیں۔
طلب باراں کی ایک دعا میں فرمایا: بارِ الہٰا! ہمیں فرمانبردار ابروں سے سیراب کر، نہ اُن ابروں سے جو سرکش اور منہ زور ہوں
مکتوبات
اہم خطوط اور مکتوبات امام علیؑ
مکتوب مکتوب 64مکتوب (64) : بجواب معاویہ (64- بجواب معاویہ)
اسلام سے پہلے ہمارے درمیان اتفاق تھا، لیکن آج ہم حق پر ہیں اور تم فتنوں میں پڑ گئے ہو۔
مکتوب مکتوب 65مکتوب (65) : معاویہ کے نام (65- معاویہ کے نام)
اب اس کا وقت ہے کہ روشن حقیقتوں کو دیکھ کر ان سے فائدہ اٹھا لو۔
مکتوب مکتوب 66مکتوب (66) : عبداللہ ابن عباس کے نام (66- عبداللہ ابن عباس کے نام)
یہ خط اس سے پہلے دوسری عبارت میں درج کیا جاچکا ہے۔
مکتوب مکتوب 67مکتوب (67) : والی مکہ قثم ابن عباس کے نام (67- قثم ابن عباس عامل مکہ کے نام)
لوگوں کے لیے حج کے قیا م کا سروسامان کرو اور اللہ کے یاد گاردنوں کی یاد دلاؤ.
مکتوب مکتوب 68مکتوب (68) : اپنے زمانہ خلافت سے قبل سلمان فارسی رحمتہ اللہ کے نام سے تحریر فرمایا تھا (68- سلمان فارسی کے نام)
دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے۔
مکتوب مکتوب 69مکتوب (69) : حارث ہمدانی کے نام (69- حارث ہمدانی کے نام)
قرآن کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، اس سے پند و نصیحت حاصل کرو۔
مکتوب مکتوب 70مکتوب (70) : والی مدینہ سہل ابن حنیف ا نصاری کے نام (70- سہل ابن حنیف عامل مدینہ کے نام)
مدینے کے کچھ باشندوں کے بارے میں جو معاویہ سے جاکر مل گئے تھے۔
مکتوب مکتوب 71مکتوب (71) : منذر ابن جارو عبدی کے نام جب کہ اس نے خیانت کی بعض ان چیزوں میں جن کا انتظام آپ نے اس کے سپرد کیا تھا (71- منذر ابن جارود عبدی کے نام)
واقعہ یہ ہے کہ تمہارے باپ کی سلامت روی نے مجھے تمہارے بارے میں دھوکا دیا۔
نہج البلاغہ — تعارف
نہج البلاغہ امام علی ابن ابی طالبؑ کے خطبات، حکمتوں اور مکتوبات کا وہ بے مثال مجموعہ ہے جسے سید شریف رضیؒ نے چوتھی صدی ہجری میں مرتب کیا۔ یہ ویب سائٹ اس عظیم امانت کو آسان اور خوبصورت اردو میں پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔
نہج البلاغہ — عام سوالات
نہج البلاغہ کیا ہے؟
نہج البلاغہ امیرالمؤمنین امام علی ابن ابی طالبؑ کے خطبات، مکتوبات اور حکیمانہ اقوال کا سب سے مشہور مجموعہ ہے، جسے سید شریف رضیؒ نے ۴۰۰ ہجری میں مرتب کیا۔ اس کے معنی ہیں "بلاغت کی راہ"، اور یہ عربی ادب اور اسلامی اخلاقیات کی عظیم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔
نہج البلاغہ کس نے مرتب کی؟
بغداد کے عالم اور شاعر سید شریف رضیؒ (وفات ۴۰۶ ہجری) نے امام علیؑ کے کلام کا انتخاب کر کے اسے تین حصوں — خطبات، مکتوبات اور حکمتوں — میں مرتب کیا۔
نہج البلاغہ میں کتنے خطبات، مکتوبات اور حکمتیں ہیں؟
مشہور نسخوں میں تقریباً ۲۴۱ خطبات، ۷۹ مکتوبات اور ۴۸۰ حکمتیں ہیں؛ مختلف ایڈیشنز میں نمبرنگ میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔ اس ویب سائٹ پر اس وقت ۲۳۸ خطبات، ۴۹۷ حکمتیں اور ۷۹ مکتوبات موجود ہیں، ہر ایک اپنے نمبر کے ساتھ الگ صفحے پر۔
کیا نہج البلاغہ اردو ترجمہ کے ساتھ آن لائن مفت پڑھی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، مکمل نہج البلاغہ اس ویب سائٹ پر اردو ترجمہ کے ساتھ مفت دستیاب ہے، اور انگریزی و عربی میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ ہر خطبہ، مکتوب اور حکمت کا الگ صفحہ ہے جسے شیئر کیا جا سکتا ہے۔
کسی خاص خطبہ، مکتوب یا حکمت کو کیسے تلاش کریں؟
تلاش کے خانے میں حصہ اور نمبر لکھیں — مثلاً "خطبہ 1"، "حکمت 50" یا "مکتوب 53" (مالک اشترؒ کے نام مشہور عہد نامہ) — آپ سیدھا متعلقہ صفحے پر پہنچ جائیں گے۔

